ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجیو گاندھی قتل: ہائی کورٹ نے مسترد کی نلنی کی عرضی، کہا، گورنر کو ہدایت نہیں دی جا سکتی

راجیو گاندھی قتل: ہائی کورٹ نے مسترد کی نلنی کی عرضی، کہا، گورنر کو ہدایت نہیں دی جا سکتی

Thu, 18 Jul 2019 23:45:36    S.O. News Service

چنئی، 18 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مدراس ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہی نلنی کی درخواست مسترد کر دی۔نلنی نے عرضی کے ذریعے کورٹ سے گورنر کو قبل از وقت رہائی کی ہدایات دینے کی درخواست کی تھی۔ڈویژن بنچ کی جسٹس آر سبیا اور سی سرونن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 361 کے تحت کسی ریاست کے گورنر کو مکمل چھوٹ حاصل ہے اور اس وجہ سے گورنر کو کوئی ہدایت نہیں دی جا سکتی ہے۔بنچ نے کہا کہ قانون گورنر کو ان کے آئینی ذمہ داریوں کے حصول میں مکمل استثنیٰ اور استحقاق پیش کرتا ہے۔بتا دیں کہ نلنی کے وکیل نے دعوی کیا تھا کہ کورٹ، گورنر کو حکم دے سکتا ہے۔نلنی ان دنوں 30 دن پیرول پر باہر ہیں۔گزشتہ دنوں نلنی نے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے لئے ہائی کورٹ سے 6 مہینے کے پیرول مانگنے والی عرضی دائر کی تھی لیکن ہائی کورٹ نے ان کی درخواست کا نمٹارا کرتے ہوئے انہیں ایک ماہ کا پیرول ہی منظور کیا تھا۔نلنی سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل میں 6 دیگر قصورواروں کے ساتھ عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔نلنی کو راجیو گاندھی قتل میں موت کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن بعد میں تمل ناڈو حکومت نے 24 اپریل، 2000 کو اسے عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا۔نلنی کا دعوی ہے کہ موت کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد سے 10 سال یا اس سے کم وقت کی سزا کاٹ چکے قریب 3700 قیدیوں کو ریاستی حکومت رہا کر چکی ہے۔نلنی نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے قیدیوں کی وقت سے پہلے رہائی 1994 کی منصوبہ بندی کے تحت اس کی درخواست کو ریاستی کابینہ نے منظوری دے دی تھی۔اس نے کہا تھا کہ نو ستمبر، 2018 کو تامل ناڈو کابینہ نے گورنر کو اس کے اور کیس کے چھ دیگر قصورواروں کو رہا کرنے کی صلاح دی تھی، لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے۔
 


Share: